راولپنڈی/پشاور:چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ ملک میں امن کو خراب کرنے کی ہر کوشش کا فیصلہ کن اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے پیر کو پشاور کا دورہ کیا جہاں ان کا کور کمانڈر پشاور نے استقبال کیا، اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا بھی موجود تھے۔آرمی چیف کو ملک میں موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور فتنہ الخوارج کے خلاف جاری انسداد دہشت گردی آپریشنز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔آرمی چیف نے پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں اور عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے سیکیورٹی اداروں کی مثالی کامیابیاں قوم کےلئے باعث فخر ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری فورسز نے بے مثال جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کے ذریعے دہشت گردوں کو موثر طریقے سے کمزور کررہی ہیں، اہم دہشت گرد رہنماﺅں کا خاتمہ، ان کے نیٹ ورک اور انفراسٹرکچر کو تباہ کر کے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ دہشت گردی کی ہمارے ملک میں کوئی جگہ نہیں، یہ جنگ جاری رہے گی اور ہم اسے منطقی انجام تک پہنچائیں گے، ان شا اللہ۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے شہریوں کی حفاظت اور امن و امان کے قیام کےلئے انتھک محنت کر رہے ہیں ،انہوں نے کئی حملوں کو ناکام بنا کر ملک میں امن قائم رکھا۔انہوں نے ہر آپریشن کو سیکیورٹی فورسز کے عزم، پیشہ ورانہ صلاحیت اور تیاری کا ثبوت قرار دیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل عاصم منیر نے واضح پیغام دیا ہے کہ ملک کے امن کو خراب کرنے کی ہر کوشش کا فیصلہ کن اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن خوف اور انتشار پھیلانے کی کوشش کر سکتا ہے، لیکن ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، دشمن عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور وہ مزید بھاری نقصان اٹھائیں گے۔آرمی چیف نے پاک فوج کے جوانوں کے بلند حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ مادر وطن کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں اور پاک فوج و قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک ناقابل شکست قوت کے طور پر متحد ہیں۔بعد ازاں، آرمی چیف نے خیبر پختونخوا کے مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں سے الگ ملاقات کی۔ شرکا نے دہشت گردی کے خلاف ایک متفقہ سیاسی آواز اور عوامی حمایت کی ضرورت پر زور دیا۔سیاسی نمائندوں نے دہشت گردی کے خلاف قوم کی جنگ میں مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غیر متزلزل حمایت کا عزم ظاہر کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ انتہا پسند فلسفے کے خاتمے کےلئے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر اتحاد ضروری ہے۔